اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے صوبہ مازندران کے شہر محمود آباد میں امام زادہ ناصر کبیر کے حوالے سے منعقد کی گئی عالمی کانفرنس آج اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر آیت اللہ تسخیری اور حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے خطاب کیا۔ اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے جنرل سکریٹری حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے ناصر کبیر بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب میں اس کانفرنس کے انعقاد کے مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد پیروان اہلبیت(ع) کے ساتھ رابطہ میں رہنا اور ان کا تعاون کرنا ہے جو اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کی اہم ذمہ داری ہے اور ہم ان روابط کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے یمن کے حالات اور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام خاص طور پر رہبر انقلاب یمن کے شیعوں کے لیے دن رات دعا کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یمن کے عزیز شیعہ اس ملک میں اپنا مقام حاصل کریں۔انہوں نے مزید تاکید کی کہ یمن کے شیعہ ناصر کبیر کی طرح مجاہدت کریں اور کسی نتیجہ تک پہنچیں۔انہوں نے اثنی عشری اور زیدی شیعوں کے درمیان پائے جانے والے مشترکات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان مشترکات بہت زیادہ ہیں ہمارا قرآن ایک، پیغمبر ایک، امام علی اور فاطمہ زھرا علیہما السلام پر عقیدہ ایک ہے جو ہمارے درمیان روابط کو مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے تاکید کی: ہم مسلمانوں کی قدرت اور طاقت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون میں مضمر ہے۔ اگر ہم آپس میں پاش پاش ہو جائیں اور ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو ہمارے دشمن ہمیں زندہ زندہ نگل جائیں گے آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہابیت تیل کے پیسے سے کس طرح مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کر کے انہیں ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے تشیع کے خلاف صہیونیت اور امریکہ کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں چاہیے کہ ہم منطقی اور عقلی راستوں سے ان کا مقابلہ کریں چونکہ ہم مقابلہ بمثل نہیں کر سکتے لہذا ہمیں عقلی اور منطقی راستوں کا انتخاب کرنا ہو گا اور وہابیت کو دنیا میں ذلیل کرنا ہو گا۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے جنرل سکریٹری نے آخر میں کہا: ہمیں چاہیے کہ ہم امام راحل اور رہبر انقلاب کی پیروی کے ساتھ ساتھ ان کے بتائے ہوئے راستوں پر قدم بڑھائیں۔




























